ایران جاگ رہا ہے – شیریں عبادی کی سوانح عمری

شیریں عبادی کا مختصر تعارف  

شیریں عبادی ایران کی معروف قانون دان اور انسانی حقوق کی ترجمان ہیں جنہیں نوبل انعام حاصل کرنے والی مسلم دنیا کی پہلی خاتون بننے کا اعزاز حاصل ہے۔ 21 جون 1947ء کو ایران کے شہر ہمدان میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد محمد علی عبادی شہر کے مصدق الاسناد اور کمرشل لاء کے پروفیسر تھے۔ 1948ء میں ان کا خاندان تہران چلا گیا۔ 1965ء میں شیریںنے تہران یونیورسٹی میں شعبہ قانون میں داخلہ لیا۔ 1969ء میں گریجویشن کی اور پھر چھ ماہ تک انٹرن شپ کرنے کے بعد انہوں نے مارچ 1970ء میں بطور جج کیریئر شروع کیا۔ اس دوران انہوں نے تہران یونیورسٹی میں تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور 1971ء میں انہوں نے قانون میں ماسٹر ڈگری حاصل کی۔ وہ پہلی خاتون تھیں جنہوں نے لیجسلیٹو کورٹ کی سربراہی کی۔

1979ء میں ایرانی انقلاب کے بعد قدامت پسندوں نے اعلان کر دیا کہ اسلام میں خاتون جج نہیں بن سکتی ۔ اس بنا پر شیریں عبادی کو جج کے منصب سے ہٹا کر سیکرٹری لیول کی ایک جگہ پر فائز کر دیا گیا۔ اس جگہ پر وہ پہلے بھی کام کر چکی تھی۔ انہوں نے دیگر خاتون ججز کے ساتھ مل کر احتجاج کیا ۔ اس صورتحال سے دل برداشتہ ہو کر شیریں عبادی نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لینے کی کوشش کی لیکن ان کی درخواستیں مسترد کی جاتی رہیں۔ 1993ء تک وہ بطور وکیل پریکٹس بھی جاری نہ رکھ سکیں۔ اس اثناء میں وہ کتب اور مختلف جرائد میں مضامین لکھتی رہیں۔

شیریں عبادی کی تصانیف سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جمہوریت اور انسانی مساوات کی قائل ہیں۔ وہ مغرب کی دلدادہ نہیں ہیں ان کے اندر ایرانی قوم پسندی زیادہ نظرآتی ہے۔ وہ مغرب نواز شاہ کی شدید مخالف رہی۔ انہوں نے ایرانی انقلاب کی حمایت کی تھی ان کا کہنا ہے کہ جو لوگ ایران کو چھوڑ کر مغربی ممالک میں جابستے ہیں میں سمجھتی ہوں وہ میرے لیے مرگئے۔ انہوں نے ایران کے اندر غیر ملکی مداخلت کے ارادوں کی شدید مذمت کی ۔ وہ ایران کے جوہری پروگرام کا کھلم کھلا دفاع کرتی ہیں۔

ایران جاگ رہا ہے

  1978 میں جب انقلاب کا بخار بڑھ چکا تو عراق میں جلاوطنی کاٹنے والے آیت اللہ خمینی وزرا کو انکے دفتروں سے نکال باہر کرنے کی غرض سے واپس ایران آئے. شیریں عبادی، جنکی عمر اس وقت 31 برس تھی، اور جو ایران کی پہلی خاتون جج تھیں، بھی وزیر عدل کے دفتر پر دھاوا بولنے والے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ تھیں. وزیر وہاں موجود نہ تھا. نوجوان سیاسی کارکنوں نے دفتر میں ایک بوڑھے جج کو ایک میز کے پیچھے بیٹھا پایا جو انکو حیرت سے گھور رہا تھا. 

 ‘تم’ ،شیریں عبادی کو دھاوا بولنے والوں کے ہمراہ دیکھ کر وہ چلایا. ‘اتنے لوگوں میں آخر تم ہی کیوں. کیا تم نہیں جانتی کہ تم ان لوگوں کا ساتھ دے رہی ہو جو اقتدار میں آتے ہی تمہاری نوکری تم سے چھین لیں گے ؟’  شیریں اپنی کتاب Iran Awakening میں لکھتی ہیں کہ انکا جواب ‘میں ایک غلامانہ جج سے آزاد ایرانی ہونا بہتر سمجھوں گی’ خود پارسائی سے بھرپور تھا.  

 ایک خاتون جج کی حمایت اور تصدیق انقلابیوں کے لئے بڑی کارآمد تھی، جو ایرانی خواتین کو یقین دلوانا چاہتے تھے کہ عورتوں کے لئےانکی نیتیں اور ارادے مہربان ہیں. مگر اگلے ہی سال، جب ملا -مفتی- اقتدار پر اپنی گرفت مظبوط کر چکے اور شاہ کا تختہ الاٹ چکے، تو انہوں نے ایران کی پہلی خاتون جج شیریں کو ترقی دینے کے بجائے انکا عھدہ گھٹا دیا، صرف اس لئے کہ وہ عورت تھیں. اسی کورٹ روم میں جہاں وہ بطور جج بیٹھتی تھیں، پہلے انکو کلرک بنایا گیا اور پھر ایک سیکریٹری. انکے انقلابی ساتھیوں کا کہنا تھا کہ اس وقت اسلامی انقلاب اور حکومت کو بچانا ضروری ہے، اور انھیں خواتین کے حقوق کے بارے میں سوچنے کی آسائش آنے والے وقت میں میسر ہو گی. مگر وہ وقت کبھی نہ آیا. 

 1980  میں ایک دن اسلامی ضابطہ تعزیرات جسکو بغیر بحس و مباحثے کے رات و رات اپنایا گیا تھا، صبح  کے اخبار میں نمودار ہوا. شیریں لکھتی ہیں کہ ان قوانین نے انکو جھنجھلا کر رکھ دیا. اس قانون میں ایک عورت کی جان، مرد کی جان کے برابر نہیں، بلکہ اسکی حیثیت اس سے آدھی تھی. مجرموں کو دی جانے والی سزائیں اور مرد عورت کے تعلق کو 1400 پیچھے لے جایا جا رہا تھا. 

 شیریں عبادی
شیریں عبادی

ایرانی صحافی آزاده معاونى کے ساتھ شیریں عبادی کو 2003 میں نوبل انعام برائے امن سے نوازا گیا. یہ انعام جیتنے والی وہ پہلی ایرانی شہری اور پہلی مسلم خاتون تھیں. انکی کتاب نہ صرف انقلاب کے بعد کے ایران کی منجھی ہوئی تاریخ ہے بلکہ واقعات کی بے تکلفانہ یاد داشت بھی ہے. انھوں نے تفصیلات کو بڑی باریک بینی اور مہارت سے چنا ہے. یہ ایک ایسی پُر تذتذب کہانی  ہے جو آپکو ان تلخ حقائق اور چوئیسیز  -choices-  سے آگاہ کرتی ہے جنکا سامنا ان ایرانیوں کو کرنا پڑتا ہے جو اپنے ملک میں تبدیلی کے لئے لڑتے ہیں. شیریں نے ایران کے اسلامی قوانین سے یہ توقع نہ کی تھی کہ وہ انکی شادی پر بھی اثر ڈالیں گے. وہ لکھتی ہیں، ‘جب جاوید اور میں نے شادی کی، ہم ایک دوسرے کی زندگی کا بحیثیت برابر انسان حصہ بنے. مگر ان قوانین کے مطابق وہ تو ایک فرد ہی رہا مگر میں اسکی مال منقولہ یا کوئی شے بن کر رہ گی .وہ مجھے کسی بھی وقت من کی موج میں طلاق دے سکتا تھا، میرے ہونے والے بچوں کو مجھ سے چھین کر انکی نگرانی لے سکتا تھا، اور میری اجازت کے بنا تین بیویاں لا کر میرے ساتھ گھر میں بٹھا سکتا تھا.’ 

 وہ جانتی تھیں کہ انکے شوہر کا ایسا کچھ بھی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں مگر ان غیر متوازن اختیارات نے انکو بے چین کئے رکھا. پھر انھوں نے ایک حل نکالا: وہ اپنے شوہر کو لے کر نوٹری کے دفتر گئیں جہاں جاوید خود کو بطور شوہر اسلامی جمہوریہ کے نئے دئیے گئے اختیارات سے دست بردار ہو گئے. کاغذات پر دستخط کرتے ہوے نوٹری نے حیران ہو کر پوچھا، ‘تم یہ کیوں کر رہے ہو؟’، جس پر جاوید نے جواب دیا، ‘ میرا فیصلہ ناقابل تَنسيخ ہے. میں اپنی جان بچانا چاہتا ہوں.’ 

 انقلاب کے بعد کی دہائی جنگ اور ظلم و جبر کی کٹھالی کی طرح تھی. شیریں کے لئے سیاسی نظر بندی اور انکے شوہر کے بھائی کی موت اس دہائی کے اہم واقعات تھے. وو اس قصے کو دَر احساسی اور غصے کے ملے جلے جذبے کے ساتھ بیان کرتی ہیں. یہی واقعات انکو 1990 میں قانونی پرکٹس میں واپس لاتے ہیں.  یہ وہ وقت تھا جب ایران کے لیڈر یہ جان چکے تھے کہ لاکھوں جانیں جنگ میں گنوانے کے بعد، انکو خواتین وکلا اور اساتذہ کی ضرورت تھی.   

 عبادی نے ملک کے سب سے مشکل  اور سرکش انسانی حقوق کے کیسوں کو سہارا دیا. انکا کہنا تھا کہ اسلام کی ایسی تشریح و تعبیر کی جا سکتی ہے جو زیادہ منصفانہ اور کم تفریق کرے. اس مقصد کے لئے انھوں نے مذہبی کتب کھنگال ڈالیں تاکہ وہ قرآن کی  مخصوص تشریحات کے خلاف استدلال کر سکیں. نہ تو وہ اسلامی تعزیرات کے مجموعے کی حامی تھیں اور نہ وہ مذہب کو قانون کی بنیاد بنانے کے حق میں تھیں مگر وہ دانش وارانہ غرور کا شکار نہ تھیں.انھوں نے ایسا اس لئے کیا کیونکہ انکے شدید نوعیت کے کیسوں کواس سے مضبوطی ملی اور مذہب کو استمال کرنے والے اقتدار پر قابض انقلابیوں کو گھٹنے ٹیکنے پڑتے. 

 ایران اور کینڈا کی شہریت رکھنے والی صحافی زہرہ کاظمی، جنکو 2003 میں پولیس حراست میں مار دیا گیا، کا کیس بھی شیریں نے لڑا. 1999 کے احتجاج میں نیم فوجی دستوں کے تشدد سے ہلاک ہونے والے طالبعلم کے کیس پر کام کرتے ہوے شیریں کو جیل جانا پڑا. جب 1990 کی دہائی میں مشکوک حالات میں بہت سے دانشوروں کو قتل کیا گیا، تو ان میں سے سب سے اہم کیس، پروانهی اسکندری فروهر اور داریوش فروهر، ایک دانشور جوڑا جنکو انکے گھر میں قتل کیا گیا، کا کیس بھی شیریں نے لڑا. کیس کی تیاری کے سلسلے میں سرکاری کاغذات کو کھنگالتے ہوے شیریں کو پتا چلا کہ انکے قتل کا سرکاری حکم نامہ پہلے سے جاری ہو چکا تھا.  

  شیریں ایک ارفع  شخصیت کی مالک ہیں مگر وہ اپنی زندگی کے فیصلوں کو یوں بیان کرتی ہیں جیسے کہ وہ قدرتی اور یقینی تھے. ایسا نہیں ہے کہ انکے ارد گرد کے تمام افراد نے زندگی داؤ پر لگا کر آزادی حاصل کرنے کی کوشش کی. وہ حَسرَت زَدگی اور غصے سے بھرپور یادیں بیان کرتی ہوئی لکھتی ہیں کہ انکے بہت سے دوست احباب ایران - عراق جنگ میں ملک چھوڑ کر چلے گئے. اسی طرح کچھ نے یا تو حکومت کا ساتھ دیا یا پھر ایسی قانونی فیلڈ - حلقہ - میں چلے گئے جہاں وہ سیاست سے دور رہ سکتے تھے. شیریں کے لئے حب الوطنی کے تقاضوں کے مطابق صرف ایک چوائس تھی، کہ وہ ایران میں رہیں، اور اخلاقیات کے تقاضوں کے مطابق یہ کہ وہ سسٹم میں موجود زیادتیوں اور نہ انصافیوں – جنکو قانون بنا دیا گیا تھا –  کا مقابلہ کریں. 

 یہ سب محنت اکثر اوقات مایوس کن ہوتی. شیریں کے بہت سے کیسوں کا اب تک فیصلہ نہیں ہوا اور بہت سے ایسے قوانین جنکو تبدیل کرنے کے لئے وہ جدوجہد کرتی رہیں، آج بھی موجود ہیں. اسکے باوجود اپنے کام کی بدولت انہوں کے اسلامی جمہوریہ کے سنگین قابل اعتراض معمولات کی نشاندہی کی ہے. ایسا کرنے میں ایسے بہت سے لوگوں کے لئے امید کی کرن بن گیئں ہیں جو حکومت کے کالے قوانین سے تنگ آ چکے ہیں اور مصلحتوں میں کام کرنے والے بے ڈھنگ عدالتی نظام کی الجھنوں سے پریشان ہیں.   

شیریں عبادی

شیریں عبادی

 انکی کتاب پڑھتے ہوئے آپ خواھش کرتے ہیں کہ کاش وہ اپنے کیسوں کی مزید تفصیلات بتاتیں، کہ انہوں نے اپنے کلائنٹس کا دفاع کیسے کیا، ٹرائل کی پیچیدگیوں اور موشگافیوں میں انہوں نے کیا حربے اپنائے. کچھ جگہ تو یہ بھی نہیں بتایا گیا کے قانونی کیس کا فیصلہ کیا ہوا، یا وہ ختم بھی ہوا یا نہیں. شیریں لکھتی ہیں کہ وہ یہ تفصیلات اپنی آئندہ کتاب کے لئے محفوظ رکھ رہیں ہیں، مگر ان تفصیلات کی عدم موجودگی واضح ہے. 

 شیریں عبادی ان سمجھوتوں سے بخوبی واقف ہیں جو انکو نام نہاد اسلامی قوانین سے لڑتے وقت کرنے پڑتے ہیں. وہ ایران کی اصلاح پسند تحریک کا ذکر پر وقار طریقے سے کرتی ہیں حالانکہ اسکو مغرب اور اسلام پسندوں دونوں نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے. مغرب کا اسرار تھا کہ یہ اصلاح پسند تحریک اسلام پسندوں کا کھل کر مقابلہ نہیں کرتی. ایک ایسے وقت میں جب امریکا احمکانہ انداز میں بڑے زور و شور سے ایران میں حکومت کی تبدیلی کی بات کرتا ہے،  تو شیریں بڑی فصاحت سے ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ایک غیر منصفانہ نظام میں انصاف کے لئے کام کرتے ہوئے ایک تسلی بخش اخلاقی رویہ قائم رکھنا ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا. 

 وہ لکھتی ہیں : 

‘ میں سیکولر نظریے کے مطابق مذہب اور حکومت کی علیحدگی پر یقین رکھتی ہوں، کیونکہ بنیادی طور پر کسی بھی مذہب کی طرح اسلام بھی تشریح اور مفہوم کے زیر اثر ہے. اسکی تشریح اس طرح بھی کی جا سکتی ہے کہ یہ عورتوں پر ظلم کے لئے استمال ہو، اور اس طرح بھی کہ انکو آزادی دینے کیلئے استمال ہو…. میں پیشے اور ٹریننگ کے اعتبار سے وکیل ہوں….لہٰذا ایسے قوانین جنکی بنیاد ایسے سورس یا ماخذ پر ہے جس میں شرائط اور تعریف مقرر کردہ نہیں ہیں انکو عزیز رکھنے سے پیدا ہونے والے مسائل سے اچھی طرح واقف ہوں .مگر میں اسلامی جمہوریہ کی شہری بھی ہوں اور جانتی ہوں کہ اس مسلے کو کسی اور طرح حل کرنے کی کوشش بے فائدہ ہوگی. میرا مقصد اپنے سیاسی عقائد کا پرچار نہیں بلکہ ایسے قانون کے لئے جدوجہد کرنا ہے جو لیلیٰ کے خاندان جیسے اور لوگوں کو تحفظ دے سکے، وہ لوگ جو اپنی بیٹی کے قاتلوں کو قانونی سزا دلوانے اور انصاف حاصل کرنے کے لئے بے گھر ہو گئے، جنکو قاتل کی پھانسی دلوانے تک کے لئے مالی ادائیگی کرنی پڑی. اگریہ کرنے کے لئے مجھے اسلامی قوانین کی بھاری بھرکم کتب کو کھنگالنا پڑتا ہے، یا ایسے مذھبی ذریعوں کا سہارا لینا پڑتا ہے جو اسلام کے درس اخلاقیات اور عقیدہ مساوات انسانی پر زور دیتے ہیں، تو میں ایسا ہی کروں گی. کیا یہ راستہ مشکل ہے؟ بے شک ہے. مگر کیا کوئی متبادل میدان جنگ موجود ہے ؟ ہزار خواہش کے باوجود، مجھے ایسا کچھ نظر نہیں آتا. ‘ 

Related Posts with Thumbnails

موضوع : سیاست اور حالات حاضرہشخصیت

ٹیگ : , , ,

Comments (2)

Trackback URL | اس تحریر کے تبصروں کی RSS Feed

  1. [...] This post was mentioned on Twitter by UrduFeed. UrduFeed said: ایران جاگ رہا ہے – شیریں عبادی کی سوانح عمری http://nblo.gs/d6QYJ [...]

    پسند یا نا پسند : Thumb up 0 Thumb down 0

  2. محمّد عمر says:

    تو پھر ایران کے آیتہ للہ پر طنز کے نشتر اس طرح نہیں چلاۓ جاتے جس طرح پاکستان کے ملا پر تنقید ازل سے کی جاتی ہے – مسلہ کدھر ہے ؟

    پسند یا نا پسند : Thumb up 0 Thumb down 0

تبصرہ لکھیے




اگر آپ چاہتے ہیں کے آپکے تبصرے کے ساتھ تصویر نظر آئے تو حاصل کیجیے Gravatar.

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)