کالا قانون – حصہ اوّل – اہم تاریخی پہلو اور مقدمات

 تعزیرات پاکستان کی شق 295 ، جو بلیسفیمی قانون کے نام سے جانی جاتی  ہے، کو 1860 میں متحد ہندوستان کے آئین میں شامل کیا گیا.  تب  یہ قانون تمام مذاہب اور تمام افراد پر یکساں لاگو ہوتا تھا. زیادہ سے زیادہ سزا قابل ضمانت دو سال قید تھی. کسی مذہبی اجتماع میں افرا تفری پھیلانا بھی اس قانون کے مطابق جرم کے زمرے میں آتا تھا.  1986  سے 2010  تک لگ بھگ 1274 پر اس قانون کو لاگو کیا گیا.     

پاکستان میں اقلیتوں کے متعلق کچھ اعداد و شمار

پاکستان کی موجودہ آبادی تقریباً اٹھارہ کروڑ چالیس لاکھ کے لگ بھگ ہے. مذہب کے لہٰذ سے اس آبادی کی تقسیم کچھ یوں ہے :

· اسلام : 97 فیصد – کل مسلم آبادی میں سے تقریباً 20 فیصد آبادی شیعہ مسلک سے تعلق رکھتی ہے جبکہ بقیہ سنی مسلم ہیں.

· ہندو: 32 لاکھ – 1.6 فیصد

· عیسائی – 28 لاکھ – 1.6 فیصد

· سکھ – 20 ہزار – 0.001 فیصد

بقیہ اقلیتوں میں پارسی، احمدی، بدھ مت، یہودی، بہائی اور چترال کے کالاشا شامل ہیں.

تحفظ ناموس رسالت کے کالے قانون سے متعلق کچھ چونکا دینے والے اعداد و شمار

· 1980 اور 2009 کے درمیان پاکستان میں 960 سے زائد افراد کو اس قانون کے سہارے نشانہ بنایا گیا.

· ان میں سے 479 مسلمان، 340 احمدی ، 119 عیسائی، 14 ہندو اور 10 کسی اور مذہب کے ماننے والے تھے.

· ان کیسوں میں سے 70 فیصد پنجاب کے گنجان آباد علاقوں میں درج ہوے.

· ضیاء الحق کے 1980 کے دور سے لے کر اب تک ، اس قانون کے تحت حراست میں لئے گیے 32 ایسے افراد کو جیل یا کورٹ کے باہر غیر قانونی طور پر مار دیا گیا، حالانکہ ان پر جرم ثابت بھی نہ ہوا تھا اور یا تو انکا مقدمہ ابھی زیر سنوائی تھا یا انکو عدالت بری کر چکی تھے.

· کم سے کم 2 ایسے ججوں کو بھی قتل کیا جا چکا ہے جنھوں نے اس قانون کے تحت حراست میں لئے گئے افراد کو جرم ثابت نہ ہونے پر بری کیا ہو.

اہم تاریخی پہلو اور اہم مقدمات

 1927 :

* علم دین نامی ایک مسلمان نے “رنگیلا رسول” کتاب کی اشاعت کے بعد توہین رسالت کو بنیاد بنا کر قتل کیا. اس متنازہ کیس میں علم دین کا دفاع محمد علی جناح نے کیا اور انکو کیس میں شکست ہوئی. اسکے بعد اس قانون میں ترمیم کی گئی اور” توہین یا بیحرمتی کی کوشش”  کے ساتھ “ بالا رادا” کے الفاظ شامل قانون میں شامل کئے گئے. 

 1980 سے  1986 :

* شق 295 میں 5 تبدیلیاں کی گیئں. یوں مقدس اقتباسات و رسائل کی توہین اور قرآن و رسول کی کی بیحرمتی کے متعلق قانون ضیاء  دور میں آئین کا حصہ بنے.

 1990 :  

* وفاقی شرعی عدالت پھر قانون میں ترمیم کی خواھش سے پارلیمنٹ کو صلاح دیتی ہے کہ اس جرم میں تا حیات قید کی سزا کے ساتھ ساتھ پھانسی کی سزا بھی شامل کی جائے.   وفاقی شرعی عدالت بیان کرتی ہے کہ اگر قومی اسمبلی نے 30 اپریل 1991  تک اس صلاح پر عمل نہ کیا تو تا حیات قید کی سزا اس قانون سے ختم سمجھی جائے گی.

1991 :   

* قومی اسمبلی کوئی ایکشن نہیں لیتی، لہٰذا شق 295  کی خلاف ورزی کی لازمی - تَولّیتی  –  سزا پھانسی ٹھہرتی ہے. 

1992 :

* سینٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے قانون و عدل شق 295 سے “یا تا حیات قید” کے الفاظ نکالنے کی صلاح دیتی ہے مگر ممبران سمجھتے ہیں کہ  شق 295 غیر واضع ہے اور کسی ایکشن سے قبل اسلامی نظریاتی کونسل کو اسے تفصیلی طور پر بیان کرنے کی ضرورت ہے. قانون سے تا حیات قید کی سزا کو ختم کرنے کے مطالبے کو پارلیمانی ممبران رد کرتے ہیں لہٰذا پھانسی کی ایک متبادل سزا کے طور پر - تا حیات قید – قانون میں باقی رہتی ہے.    

* نومبر 1992 کو گل مسیح نامی ایک عیسائی کو توہین رسالت کی بنا سزا موت سنائی گئی. اس پر الزام تھا کہ اسنے ایک مسلم پڑوسی محمد ساجد سے یہ کہا: “میں نے پڑھا ہے کہ نبی محمد کی 11 بیویاں تھیں جن میں ایک کم عمر بھی تھیں.”

 1993 :

* 11سالہ سلامت مسیح، 38  سالہ منظور مسیح اور 44  سالہ رحمت مسیح پر مسجد کی دیوار پر توہین آمیز کلمات لکھنے کا الزام لگتا ہے. حالانکہ سلامت کی ماں کا کہنا تھا کہ اسکے بیٹے کو لکھنا پڑھنا نہیں آتا.

1994 :  

* منظور مسیح اپریل میں ڈسٹرکٹ و سیشن کورٹ سے اپنی سنوائی کے بعد باہر آ رہا تھا کہ اسکو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا. سلامت اور رحمت کو گہری چوٹیں آئیں.

1995 :

*  14 سالہ سلامت مسیح اور 46  سالہ رحمت مسیح کو فروری میں سزائے موت سنائی گئی.

*  23 فروری کو لاہور ہائی کورٹ نے رحمت مسیح اور سلامت مسیح کو اس بنا پر بری کر دیا کہ وہ عیسائی ہیں اور عربی زبان سے مکمل ناواقف ہیں لہٰذا وہ نازیبا الفاظ لکھنے سے قاصر تھے. بنچ میں جسٹس عارف اقبال حسین بھٹی اور جسٹس چودھری خورشید احمد شامل تھے.

* ملی یکجہتی کونسل کے نام سے بہت سی مذہبی جماعتیں مئی میں اکٹھی ہوتی ہیں اور اس فیصلے کے خلاف ملک گیر ہڑتالوں اور احتجاجوں کا سلسلہ شروع کرتی ہیں.   

* 14  اکتوبر 1996  کو ایوب مسیح نامی ایک بھٹہ مزدور عیسائی شہری کو پولیس نے 295C کی خلاف ورزی کے جرم میں زیر حراست لیا. ایوب کے ایک مسلمان پڑوسی محمد اکرم کا کہنا تھا کہ ایوب نے عیسائی مذہب کے صحیح ہونے کا دعوا کیا ہے   

1997 : 

*  جج عارف اقبال حسین بھٹی کو 19 اکتوبر 1997 کو انکے دفتر میں قتل کر دیا گیا. انھوں نے توہین رسالت کے قانون کے دو ملزموں – رحمت مسیح اور سلامت مسیح جنکو سزائے موت سنائی جا چکی تھی –  کو جرم ثابت نہ ہونے کی بنا پر بری کیا تھا.

 1998 :     

* ایوب مسیح کو توہین رسالت کے قانون کے تحت پھانسی کی سزا دی جاتی ہے مگر لاہور ہائی کورٹ اس فیصلے کو رد کر دیتی ہے.

* بشپ جان جوزف 6 مئی کو کورٹ ہاؤس میں کلیسائی حَلقے کے سامنے احتجاج کے طور پر خود کشی کرتے ہیں. یوں ایوب مسیح کے کیس کو بین الاقوامی توجہ ملتی ہے.   

* جسٹس عارف اقبال بھٹی کے قاتل کو گرفتار کر لیا جاتا ہے جو گناہ قبول کرتے ہوے کہتا ہے کہ اسنے جج کو اس لئے قتل کیا کیونکہ اسنے توہین رسالت کے ملزم سلامت مسیح اور رحمت مسیح کو بری کر دیا تھا.

 2000:

* اکتوبر 2000 میں یونس شیخ نامی ایک فزیشن پر اپنے ایک لیکچر کے دوران بیان کی گیی تصریحات کی بنا پر توہین رسالت کا الزام لگا. طلبہ نے الزام لگایا کہ یونس کا کہنا تھا کہ نبی محمّد کے والدین غیر مسلم تھے کیونکہ وہ اسلام کی آمد سے قبل ہے وفات پا چکے تھے. کورٹ میں جج نے فیصلہ سنایا کہ یونس ایک لاکھ روپیہ جرمانہ ادا کرے اور اسکو پھانسی دی جائے. 20  نومبر 2003  کو ایک کورٹ نے یونس کو بری کر دیا اور وہ ہمیشہ کے لئے پاکستان چھوڑ کر یورپ چلا گیا.

 2003:

* اگست 2003  میں پولیس نے سیمیول مسیح نامی ایک عیسائی شہری کو حراست میں لیا. اس پر الزام تھا کہ اسنے مسجد کی دیوار پر تھوک کر اسکی بیحرمتی کی ہے. جیل میں وہ ٹی بی کا مرض کا شکار ہوا، لہٰذا اسکو ہسپتال منتقل کر دیا گیا. 24  مئی 2004  کو ایک پولیس کانسٹبل نے ہتھوڑے کے استعمآل سے اسے قتل کر ڈالا. کانسٹبل کا کہنا تھا کہ مسلمان ہونے کی حیثیت سے سیمیول کو قتل کرنا اسکا فرض تھا.

2006:

* عیسائی اور مسلمان ڈین براؤن کے ناول ‘ ڈا ونشی کوڈ” کو توہین آمیز قرار دیتے ہیں. فلم کو ملک میں ممنوع قرار دیا جاتا ہے. 

2009 :

*  30 جولائی 2009 کو قالعدم تنظیم سپاہ صحابہ کے سینکڑوں کارکنوں نے پنجاب کے شہر گوجرہ کے قریبی گاؤں میں عیسائیوں کے گھروں کو نظر آتش کیا اور انکو زندہ جلا ڈالا. انکا کہنا تھا کہ انھوں نے قرآن کی بیحرمتی کی ہے، حالانکہ اس بات کا کوئی ثبوت نہ مل سکا.

* 4  اگست 2009  کو مسلمانوں کے ایک ہجوم نے نجیب اللہ نامی صنعتکار اور اسکے ساتھیوں پر دھاوا بول دیا. انھوں نے نجیب اللہ سمیت دو اور لوگوں کو قتل کیا اور فیکٹری کو نظر آتش کر دیا. انکا کہنا تھا کہ نجیب اللہ نے ایک پرانے کیلنڈر - جس پر قرانی آیات لکھیں تھیں -  کو اپنی جگہ سے اتار کر میز پر رکھا تھا. اس ‘جرم’ کی آڑ میں ایک ملازم نے نجیب اللہ پر توہین قرآن کا الزام لگایا. دراصل ملازمین کا نجیب اللہ سے تنخواہ سے متعلق تنازعہ چل رہا تھا.

*  فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے دو عیسائی افراد، جن پر قرآن کی بیحرمتی کا جھوٹا مقدمہ بنایا گیا تھا اور عدالت نے 10 سال سزا سنائی تھی، کو لاہور ہائی کورٹ نے جرم ثابت نہ ہونے پر بری کردیا. پتا چلتا ہے زمین کے تنازہ پر جھوٹا مقدمہ گھڑا گیا تھا. 

2010 :

* زیب انسا جسکو 1996  میں قرآن کی بیحرمتی کے جرم میں قید کیا گیا تھا، اسکو لاہور ہائی کورٹ جرم کا ثبوت نہ ہونے کی بنا پر بری کر دیتی ہے.

* آسیہ بیبی، پہلی عیسائی خاتون کو توہین رسالت کے قانون کے تحت پھانسی کی سزا سنائی جاتی ہے.

*  گورنر پنجاب سلمان تاثیر آسیہ بیبی سے ملنے جاتے ہیں، ہمدردی کا اظہر کرتے ہیں اور بیان دیتے ہیں کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ صدر زرداری سے صدارتی معافی کی بات کریں گے . ضیاء کے بنے ہوے اس قانون کو وہ کالا قانون کہتے ہیں.

*  شیری رحمان، قانون میں تبدیلی کا بل پیش کرتی ہیں جس کی اہم شق یہ ہے کہ باقی تمام جرائم کی طرح اس میں بھی ملزم کی نیت کو ملحوظ خاطر رکھا جائے. وہ بیان دیتی ہیں کہ جس طرح قتل کے ملزم پر قتل ثابت کرنے کے ساتھ یہ بھی ثابت کرنا ہوتا ہے کہ اسکی نیت قتل ہی تھی نہ کہ - مثال کے طور پر – اپنا دفاع، اسی طرح اس قانون کو بھی تبدیل کیا جائے. 

*  تمام مذھبی جماعتیں مل کر ملک گیر اجتماع، ریلیاں اور احتجاج کا سلسلہ شروع کرتی ہیں. مختلف مقامات پر سلمان تاثیر اور شیری رحمان کو اسلام دشمن اور کافر کہا جاتا ہے.

*  ممتاز قادری ، جو کہ گورنر سلمان تاثر کی سیکورٹی ٹیم کا حصہ ہے، وہ اسلام آباد میں انکو 27 گولیاں مار کر قتل کرتا ہے اور اپنی گرفتاری پیش کر دیتا ہے.

*  کورٹ میں پیشی پر وکلا سمیت بہت سے لوگ قادری کا نعروں سے استقبال کرتے ہیں، پھولوں کی پتیاں نچھاور کرتے ہیں اور ہار پہناتے ہیں.

*  قادری کے شہر راولپنڈی میں اگلے ہی روز ہزاروں افراد قادری کی حمایت میں ایک پر ہجوم ریلی نکلتے ہیں. دوسری طرف کراچی میں مختلف مذھبی رہنما اور پارٹیاں – جن میں جماعت اسلامی، شباب ملی، سپاہ صحابہ، جماعت الدعوہ شامل ہیں – 50 ہزار افراد کے ساتھ حکومت کے خلاف احتجاج کرتے ہیں تاکے قانون میں ممکنہ تبدیلی کو روکا جا سکے.  

سلمان تسسر کے قتل، ممتاز قادری کا والہانہ استقبال. عوام، وکلا کے ساتھ ساتھ، وردی میں موجود پولیس افسران بھی دیکھے جا سکتے ہیں.

سلمان تسسر کے قتل، ممتاز قادری کا والہانہ استقبال. عوام، وکلا کے ساتھ ساتھ، وردی میں موجود پولیس افسران بھی دیکھے جا سکتے ہیں.

Related Posts with Thumbnails

موضوع : سیاست اور حالات حاضرہمذہب

ٹیگ : , , , , , , ,

Comments (8)

Trackback URL | اس تحریر کے تبصروں کی RSS Feed

  1. [...] This post was mentioned on Twitter by ALE-Xpressed. ALE-Xpressed said: کالا قانون – حصہ اوّل – اہم تاریخی پہلو اور مقدمات (http://roshnipk.com/blog/?p=825) – PLEASE SPREAD! [...]

    پسند یا نا پسند : Thumb up 2 Thumb down 2

  2. M Ali Khan says:

    شرم کی بات ہے کہ ہم نے اسلام کا جلوس نکل کر دنیا کے سامنے اپنے ملک اور اپنے دین کا تماشہ بنانے پر فخر محسوس کرتے ہیں

    مذہب کے جو بیو پاری ہیں

    وہ سب سے بڑی بیماری ہیں

    وہ جن کے سوا سب کافر ہیں

    جو دین کا حرف آخر ہیں

    ان جھوٹے اور مکّاروں سے

    مذہب کے ٹھیکے داروں سے

    میں باغی ہوں میں باغی ہوں

    جو چاہے مجھ پہ ظلم کرو۔۔

    اس تبصرے کو کافی قارئین نے پسند کیا . آپکو پسند ہے یا نہ پسند : Thumb up 14 Thumb down 1

  3. ایک غیر جانبدارانہ تحریر معلوم ہے جس میں آئین پاکستان کی ایک اہم اور متفقہ طور پر منظور شدہ شق کو بغیر کسی ٹھوس دلیل کے غلط قرار دینے کی ناکام کوشش کی گئی ہے بلکہ عدالتوں کے فیصلوں کو بھی جھوٹ پر مبنی قرار دینے کی کوشش کی گئی ہے۔

    پسند یا نا پسند : Thumb up 3 Thumb down 3

  4. zain khan says:

    میرے ایک نفسیات کے ڈاکٹر ہین سئکالوجیست ان سے مین کہا کہ حیدراباد مین اتنے جامٕعات ۔۔یونیورسٹی اور ھر گلی مین مدرسہ اور نوجوان بچے ڈارڑی بڑھا رہے ہینن ۔۔۔ میر عثماعلیخان کے دور مین اتنی نہ تھی اور نہ اتنے مدرسے تھے۔۔ انہون نے کہا دراصل اس کی وجہہ یہ ہے کہ کو جوکوئی اولاد والا ھو اور انکی کفالت نہی اٹھا سکتا وہ اپنے بچوں کو ایسے مدرسے مین ڈالتا ہے جہان تین ٹائم کی روتی اور حفظ کا انتظام ھوتا ہے۔۔ اور وہ بھی زیادہ اولاد سے پریشان ہے ایسا ہی کرتا ہے۔۔ یہ وہی کرنے ہین جن کو ضمیرنہی ھوتا۔۔ ابنے ۔ بھر اس مدرسے کو پرنسپال بھی اسی قبیل کا ھوگا یعنی بے ضمیر۔۔سارے مدرسے چندے پر چلتے ہین۔۔ مدرسے کا فارغ اپنے باپ کی روٹی کبھی نہی کھایا تو اس مین ضمیر کہان کا۔۔ اندورنی طور پر اس کے دماغ اس ذلت پنپنے لگتی ہے۔۔ اور اس مدرسون کو وہ گناہ گار پیسہ اتا ہے جہان لوگ اپنے مانپاپ کی ایصال ثواب کے لیے اسطرح گنہ گار ڈالر اور رییال پھجتے ہین۔۔ مسقبل مین اس فارغ مردسے سے کیا امید ھوسکتی؟ عصری تعلیم کے خلاف ھار وقت اوس کی زبان چلتی رھتی ہے۔۔ اسلیے بچتا رھتا ہے کہ متشرح لباس اور داڑھی ڈھال کا کام کرتی ہے

    ھندوستان اور پاکیستان مین درسہ نظامیہ پڑھایا جاتا ہے پتہ نہی کتنی صدیون سے۔۔ اسلام کا واحد مخزن قران ہے لیکن اسی سے بے تعلقی سات سال کے اس کورس مین صرف سوا پارہ تفسیر پڑھائی جاتی ہے۔۔ سارا زور فلسفہ اور منطق پر دیا جاتا ہے دونون مضامین یونانی ہین سوایے لنترانی کہ اتا کیا۔۔ یہ ضرورت تھی مسلم بادشاہون کی اب تو بادشاہ نہی رھے تو اس کورس کو بند کردینا چاھیے لیکن یہ علما اپنا روزگار مسلم بچون کو اور پیچھے کرکے اپنا پیٹھ پھر رہے ہین ۔۔۔۔۔۔مولانا شبلی اور مولانا مودودی اسطرز کی پڑھائی کے قطعا قائل نہ تھے

    فتوی کیا ہے جب قران اور سنت مین کسی مسلے کا حل نہ ھو تو جناب اپ کی رائے؟ اوس کے لیے مفتی کا عہدہ ہے اور وہی مفت خور سے راے لو۔۔ فتوٰی صرف اور سرف راے سے زیادہ کچھ نہی اس کا ماننا یا نہ ماننا اپ پر لازم نہی

    ضیاءالرحمان پہت جابر تھا اوس نے ایسا کھیل کھیلا کہ لوگ اوس کے مرنے کے بعد بھی پرسکون نا رھو۔۔ مسلمانون کے پاس جہالت اتنی ہے کہ بھلے اپنے مان پاب کی خدمت نہ کرین نماز سے تعلق کیا ۔۔ پقول مولانا وحید الدین خان کے جہان کہین اوپن ڈرین دیکھین تو سمجھو یہ مسلم سلم ہے۔۔ طہار قوم گندگی مین رھتی ہے۔۔ سارے کے سارے عاشق رسول اور کوئ نہی۔۔ نیدرلینڈ مین کارتون چھاپے لیکن اپنے محلے مین بس جلے اور مفت خور عالم کہتا ہے الحمدللہ

    حال ھی مین وسعت اللہ خان کا بی بی سی پر بلاگ پڑھا ابھی بھی وہ ھے

    بحرحال مار استین جسکو جس جان کی رکھوالی کے رکھا گیا اوسی کو ڈس دیا۔۔ کون کہتا ہے مسلمانون مین نچلی ذات نہی ھوتی ھے ھے ھے

    زین خان

    پسند یا نا پسند : Thumb up 4 Thumb down 1

  5. ایڈمن صاحب کمال کا لکھآ ہے۔ جزاک اللہ

    پسند یا نا پسند : Thumb up 1 Thumb down 0

  6. mazhar haraj says:

    Hidden due to low comment rating. Click here to see.

    اس تبصرے کو کافی قارئین نے نا پسند کیا. آپکو پسند ہے یا نا پسند : Thumb up 4 Thumb down 9

  7. mazhar haraj says:

    Hidden due to low comment rating. Click here to see.

    اس تبصرے کو کافی قارئین نے نا پسند کیا. آپکو پسند ہے یا نا پسند : Thumb up 2 Thumb down 7

  8. khan wahab zameer says:

    ما شا allah بہت اچھا لکھا گیا ہے!!!،مظہر ہرج صاھب کا کونہ اے کی مسلمان کسی کی مذہب کو برا نہین کہتے تو پھر احمدیہ مسلک کی با نی مرزا غلام احمد کا بھی ادب کرنا چا ویے .

    اس تبصرے کو کافی قارئین نے پسند کیا . آپکو پسند ہے یا نہ پسند : Thumb up 7 Thumb down 1

تبصرہ لکھیے




اگر آپ چاہتے ہیں کے آپکے تبصرے کے ساتھ تصویر نظر آئے تو حاصل کیجیے Gravatar.

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)