مسلمانوں کا سنہری دور

عرب مسلمانوں نے ساتویں صدی میں خالد بن ولید کی قیادت میں فارسی ساسانی سلطنت اور  بازنطینی رومی سلطنت کے آدھے سے زیادہ حصے کو فتح کر لیا. اس طرح انھوں نے مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا اور شمالی افریقہ تک پھیلی ہوئی عرب سلطنت کی بنیاد رکھی جو کہ بعد میں پاکستان، جنوبی اٹلی اور جزیرہ نما آئبيريائی خطے تک پھیل گئی.

روسانہ گورینی لکھتے ہیں …

بارہویں صدی کا ایک عربی خاکہ جو کہ انسانی آنکھ کو بیان کرتا ہے.

بارہویں صدی کا ایک عربی خاکہ جو کہ انسانی آنکھ کو بیان کرتا ہے.

مورخوں کی اکثریت کے مطابق، ابن الحیثم جدید سائنٹفک میتھڈ کا موجد تھا. اسنے اپنی کتاب سے مَناظَریات کو اس طرح سے پیش کیا کہ انے والے وقت کے لئے اسکے معنی ہی بدل گئے. اسنے اپنی فیلڈ میں تجربات کے استمال کو ایک معمول بنایا اور اسکو ثبوت کی بنیاد کے طور پر لیا. اسکے مشاہدات صرف مفروضوں پر مبنی نہ ہوتے تھے بلکہ تجرباتی شواہد پر اور اسکے تجربے سائنسی، با نظام اور تواتر سے دہرائے جا سکتے تھے.

رابرٹ بریفولٹ اپنی کتاب  The Making of Humanity میں لکھتے ہیں ….

آج کی سائنس نے صدیوں پرانی عرب اور مسلمان سائنسی کاوشوں سے  صرف حیرت انگیز دریافتیں یا پھر انقلابی نظریات – تھیوری – ہی نہیں لی بلکہ یہ اس ثقافت کی قرضدار ہے. اسکے وجود کا سہرا اسی ثقافت اور تہذیب کو جاتا ہے. قدیم دنیا پری-سائنٹفک تھی. یونانی فلکیات اور ریاضی ان لوگوں کے لئے یوں تھا جیسے کوئی غیر ملکی چیز ہو اور یونانی ثقافت میں اسکو جگہ نہ مل سکی، یا شائد اسکو موافق نہ آیا. یونانیوں نے نظریات اور مفروضے قائم کیے اور انکو با نظام بھی بنایا مگرتفشیش و تحقیق کے طریقے، علمی خزانوں کا موثر اجتماع اور ذخیرہ، سائنس کے چیدہ طریقے، تفصیلی مشاہدات، تجرباتی پوچھ گچھ   – یہ سب یونانی مزاج کے لئے بیگانہ تھے. جسکو ہم آج سائنس کہتے ہیں اسکا یورپ میں جنم پوچھ گچھ اور تفشیش کے ایک نئے جذبے سے ہوا، تحقیق، مشاہدات، ناپ تول اور تجربات کے نئے طریقے ، ایسے طریقے اور جذبہ جس سے یونانی نہ واقف تھے. یہ جذبہ اور یہ طریقے ہمیں عربوں (مسلمانوں) نے سکھائے. جدید دنیا میں عرب تہذیب کی سب سے اہم کاوش سائنس ہی ہے. مگر، اسکے علاوہ بھی اسلامی تہذیب نے یورپی زندگی کے بہت سے پہلوؤں پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں.

جارج سارٹن، جو سائنس کی تاریخ پرعبوررکھنے کی حیثیت سے نامور ہیں، لکھتے ہیں …

قرون وسطیٰ کی اہم اور سب سے کم واضح کامیابی تجرباتی اور مشاہداتی جذبے کی تخلیق تھی.  اور اس کا سہرا بارویں صدی تک کے مسلمانوں کو جاتا ہے.

اولیور جوسف لاج اپنی کتاب  Pioneers of Science میں لکھتے ہیں …

قدیم اور جدید سائنس میں صرف ایک موثر ربط ہے اور وہ عربوں کی وجہ سے ہے. یورپ کی سائنسی تاریخ میں تقریباً ایک ہزار سال کا عرصہ دور تاریکی کے نام سے جانا جاتا ہے اور اس دور میں عربوں کے علاوہ کوئی بھی قابل ذکر سائنسدان نہیں تھا.

محمّد اقبال اپنی کتاب The Reconstruction of Religious Thought in Islam  میں لکھتے ہیں …

لہٰذا تجرباتی طریقہ، عقل و استدلال اور مشاہدہ جسکو عربوں نے متعارف کروایا، وہ قرون وسطیٰ میں سائنس کی تیز رفتار ترقی کی وجہ بنا. بہت سے اہم ادارے جو قدیم دنیا میں موجود نہ تھے،  انکی بنیاد قرون وسطیٰ کی اسلامی دنیا نے رکھی. ان اداروں میں عوامی ہسپتال، امراض نفسیات کے ہسپتال، عوامی کتب خانہ، ڈگری جاری کرنے والی علمی یونیورسٹی اور فلکیاتی مرصد شامل ہیں. پہلی یونیورسٹی جسنے ڈپلومے جاری کئے، وہ قرون وسطیٰ کی اسلامی دنیا کی بیمارستان طبی  ہسپتال  اوریونیورسٹی تھی. یہ ڈپلومے نویں صدی میں جاری کئے گئے.

سر جان بیگوٹ گلوب لکھتے ہیں …

مامون کے دور میں بغداد میں طبی سکول بہت فعال تھے. ہارون الرشید کی خلافت میں بغداد میں پہلا عوامی ہسپتال کھولا گیا جہاں ہر مریض کا علاج مفت ہوتا تھا. جیسے جیسے نظام بنتا چلا گیا، طبیب اور ماہر جراحی طلبہ کو لیکچر دینے لگے اور ان طلبہ کو ڈپلومے جاری کرتے جنکو وہ طبی پرکٹس کے قابل سمجھتے. مصر میں پہلا ہسپتال 872 میں کھلا اور اسکے بعد ایسے ہسپتال پوری اسلامی سلطنت میں سپین اور ایران، ہر جگہ کھلنے لگے.

گنیز بک آف ریکارڈ میں درج ہے کہ …

دنیا کی سب سے قدیم یونیورسٹی مراکش کی الکراون یونیورسٹی ہے جو کہ 859 میں کھلی. اسی طرح دسویں صدی میں قاہرہ، مصر میں قائم ہونے والی الاظہر یونیورسٹی مختلف موضوعات پر علمی ڈگریاں جاری کرتی تھی. اسکو عام طور پر پہلی مکمل یونیورسٹی سمجھا جاتا ہے.

اسلامی دنیا کی لائبریری، قدیم دنیا کی لائبریری جیسی نہ تھی کہ جسمے صرف کتب اکٹھی کر کے رکھ دی جاتی. یہ آج کے دور کی لائبریری کی طرح عوامی لائبریری تھی جہاں سے کتب کچھ دیر کے لئے لی جا سکتیں تھیں ، یہ سائنس اورخیالات کی ترویج کا مرکز تھی اور علمی مباحث کی جگہ تھی . لائبریری کیٹلاگ کا نظریہ بھی انہی مسلم لائبریریوں سے جدید دنیا میں آیا، جہاں کتب کو موضوعات کی مناسبت سے رکھا جاتا.

اسلامی سنہری دور کی اور اہم بات یہ تھی کہ اس وقت بہت سے مسلمان ایسے تھے جو متعدد علوم پر حاوی تھے – آج انکو Polymath  کہا جاتا ہے. یہ ایسے عالم اور مفکر  تھے جنھوں نے علم کی بہت سی فیلڈز میں کام کیا. انکو اس وقت حکیم کہا جاتا تھا اور یہ مذہبی اور سیکولر علوم کی متعدد شاخوں پر عبور رکھتے تھے. ایسے مسلم سکالروں کی اس دور میں کوئی کمی نہ تھی مگر ایسے سکالر نہ ملتے جو صرف کسی ایک علمی شاخ کے ماہر ہوں. ان میں البیرونی، الجاہز، الکندی، الرازی، ابن سینا، الادریسی، ابن بجا، عمر خیام، ابن زہر، ابن طفیل، ابن رشد، السیوطی جبیر، الخوارزمی، بنو موسیٰ، عبّاس ابن فرناس، الفارابی، المسودی، المقدسی، ابن الحیثم، الغزالی، الخازینی، الجزاری، ابن النآفس، الطوسی، ابن الشاطر، ابن خلدون اور تقی الدین کچھ قبل ذکر نام ہیں.

سنہری دور کے بعد مسلمانوں کا زوال

روایتی خیال ہے کہ بارہویں اور تیرھویں صدی سے مسلمان سائنسدانوں کی تعداد میں کمی آنا شروع ہوئی. کہا جاتا تھا کہ اسلامی تہذیب تب بھی سائنسدان پیدا کر رہی تھی مگر باقی دنیا کے مقابلے میں ان کی حیثیت پہلے سی نہ تھی. حالیہ تحقیق اس روایتی نظریے پر سوال اٹھاتی ہے اور اس دور کے بعد بھی جاری رہنے والی مسلم فلکیاتی تحقیق کی طرف اشارہ کرتی ہے جو کہ سولہویں صدی تک جاری رہی. اس میں ابن الشاطر کا دمشق میں کیا گیا کام کافی اہم ہے. اسی طرح طب کے علم میں ابن النآفس اور شرف الدّین صابونجی اوغلی اور معاشرتی سائنس کے میدان میں ابن خلدون کا مقدمہ – 1370 – کافی اہمیت رکھتے ہیں. مقدمہ خود اس امر کی طرف نشاندہی کرتی ہے کہ جب سائنس عراق، اندلس اور مغرب میں زوال پذیر تھی تو دوسری طرف وہ ایران، مصر اور شام میں پھل پھول رہی تھی.

سائنسی زوال کی روایتی وجوہات میں سے ایک یہ بتائی جاتی ہے کہ راسخ الاعتقاد اشعری فرقے نے عقلی اور استدلالی معتزلی فرقے کو چلینج کرنا شروع کر دیا اور اس سلسلے میں الغزالی کی کتاب تهافت الفلاسفة The Incoherence of the Philosophers قابل ذکر ہے. حالیہ تحقیق نے اس روایتی نظریے پر بھی سوال اٹھایا ہے اور کچھ سکالروں نے بیان کیا ہے کہ اشعری فرقہ سائنس کی حمایت کرتا تھا مگر صرف خیالی یا نظری فلسفے speculative philosophy کی مذمت کرتا تھا. مزید ان سکالروں کا کہنا ہے کہ کچھ نامور مسلم سائنسدان جیسے ابن الحیثم، البیرونی، ابن النآفس اور ابن خلدون خود اشعری فرقے سے تعلق رکھتے تھے. اسکے علاوہ شيعة‎ اور سنی مسلمانوں میں اختلاف، گیارہویں اور تیرھویں صدی کے درمیان صلیبی جنگوں اور منگولوں کے حملوں کو مسلم سائنسی زوال کا ذمےدار سمجھا جاتا ہے. منگولوں نے مسلم لائبریریاں، فلکیاتی رصد گاہیں، ہسپتال، یونیورسٹیاں اور عباسی دارالخلافہ بغداد سب تباہ کر ڈالا. یہاں مسلم سنہری دور کا خاتمہ ہوا.

یرھویں صدی سے کچھ روایتی مسلمان یہ خیال کرنے لگے کہ صلیبی جنگیں اور منگولوں کے حملے ان پر خدا کی طرف سے عذاب ہیں کیونکہ وہ سنّت کو بھلا چکے. ابن النآفس جیسا متعدد علوم کا ماہر بھی اسی نظریے کا قائل تھا. ایسے روایتی خیالات اور متعدد جنگوں اور اندرونی مسلوں نے ایک ایسا ماحول پیدا کیا جسنے مسلم سائنس کو پہلے کی طرح پھلنے پھولنے نہ دیا. زوال کی ایک اور وجہ جسکو ابن خلدون عصبية کہ کر پکارتا ہے تہذیبوں کے اتر چڑھاؤ یا فتوحات اور زوال سے متعلق ہے. اسکے مطابق زوال کی وجہ مذہبی نہیں، محض سیاسی اور اقتصادی ہے.

پاکستانی مسلم فلسفی حماد یوسف لکھتے ہیں کہ…

مسلم سنہری دور کے زوال کی اہم وجہ تصوف ہے. جب مسلمان تصوف سے منسلک ہوے تو اسکا انکی تعلیمی سرگرمیوں پر گہرا اثر پڑا.

1492 میں مسلمانوں کو سپین میں شکست کے بعد، اسلامی دنیا کی سائنٹفک اور ٹیکنالاجیکل جذبے کو یورپیوں کے اپنا لیا اور انھوں نے  یورپی نوبیداری اور سائنسی انقلاب کی بنیاد رکھی.

Related Posts with Thumbnails

موضوع : فلسفہ اور تاریخ

ٹیگ : , , , , , , ,

Comments (2)

Trackback URL | اس تحریر کے تبصروں کی RSS Feed

  1. [...] This post was mentioned on Twitter by روشنی , Urdublogz.com. Urdublogz.com said: UrduBlogz-: مسلمانوں کا سنہری دور http://bit.ly/9YZjZr [...]

    پسند یا نا پسند : Thumb up 1 Thumb down 0

  2. zain khan says:

    مسلمانوں کا سنہری دور: عنوان اچھا ہے– پہلے پراگراف مین لفظ “پاکستان” ٹھیک نہی– باقی کے کتابی حوالاجات بھی پڑھا ہون– اس سے اب کیا فائدہ– ھزار دفعہ دھرائے کہ مسلمانوں نے یورپ کو علوم سیکھلائے– جی ھا ں جی ھاں — اس سے کیا فائدہ — صرف اجداد کے کفن بیچنے سے زاید نہی ہے– پہلی چیز بتلاؤ مسلمان کہا ں ہین؟ سارے کے سارے طوق شدہ ہین– کوئی اپنے باپ کی گدی پر بیٹھتا ہے اور جمہوریہ اور ڈیماکراسی حکومت چلا تا ہے– ایک چالیس سال سے امر ہے– پاکستان کو جمہوری ملک کہنا اندھا ہی کہ سکتا–

    سارے مسلم ممالک مین پاکستان بہتر پڑھا لیکھا ملک ہے– پتہ نہی یہان کس چیز کے پزیرائی ھوتی ہے- تحقیق سرمائا طلب کرتی ہے– اگر سنجیدہ طریقہ سے منصوبہ ہو تو کیا بات ہے؟ کیا کچھ نہی ھوتا–

    پسند یا نا پسند : Thumb up 4 Thumb down 1

تبصرہ لکھیے




اگر آپ چاہتے ہیں کے آپکے تبصرے کے ساتھ تصویر نظر آئے تو حاصل کیجیے Gravatar.

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)