برقع، اسلام ، اور عورت کا معاشرتی کردار

ثمرین شہباز
روشنی کے لئے تحقیقی رپورٹ

اس مضمون کا پہلا حصّہ عورت اور پردہ کہ عنوان سے روشنی پر موجود ہے. پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

اسلام میں عورتوں کے لباس کی کیا ہدایت ہے ؟

سنن ابو داؤد میں ایک حدیث بیان کی گی ہے اور جسکو تبلیغی لٹریچر میں بہت زیادہ استعمال بھی کیا جاتا ہے. یہ حدیث اس طرح بیان کی گئے ہے کہ حضرت عایشہ سے روایت ہے کہ حضرت محامد نے حضرت اسماء کو کہا کہ جب کوئی عورت بلوغت کو پہنچے تو اسے یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ چہرے اور ہاتھ کے علاوہ جسم کا کوئی حصّہ ظاہر کرے. اس حدیث کو ملا حضرات نے جس طرح سے استعمال کیا ہے اس سے انکی عقل پر شک ہوتا ہے. کچھ ملا حضرات نے کہا ہے کہ عورت ابرو سے اپر کا حصّہ ڈھانپے گی، کچھ نے لکھا ہے کہ عورت ادھ پیشانی ظاہر کر سکتی ہے، کچھ نے کہا کہ پوری پیشانی ظاہر کی جاسکتی ہے. سب نے کتنا ڈھانپنا پر بحث کی لیکن کسی نے یہ جاننے کی کوشش نہ کی کہ یہ حدیث صحیح ہے بھی یا نہیں. ابو داود خود لکھتے ہیں کہ یہ حدیث مرسل (یعنی کمزور ) حدیث ہے کیونکہ سلسلا اسناد مکمّل نہیں ہے. یعنی حضرت عایشہ سے جسنے یہ حدیث سنی اسکا نام ابو داؤد کو معلوم نہیں ہے. حدیث مرسل کو شریعت میں شامل نہیں کیا جاسکتا اس لئے اس پر بحث بے کار ہے.

اوپر دیے گئے تمام حوالوں میں کسی بھی جگه پر ایسے کوئی ہدایت نہیں ملتی کہ عورت کے صرف ہاتھ اور چہرہ ہی نظر انا چاہیے. لیکن تقریباً تمام علما نے سر کے ڈھانپنے کا حکم دیا ہے اور اسے فرائض میں شامل کیا گیا ہے.میرے خیال میں یہ غلط ہے . یہ درست ہے کہ صحابیات نے اور ام المومنین نے ‘خمار’ اوڑھا. لیکن جیسا کہ پہلے بتایا گیا ہے کہ خمار عربی لباس کی حصّہ تھا اور اسے مرد اور عورتیں دونوں نے پہنا. خمار اسلام نہیں لے کر آیا تھا بلکہ یہ عرب کہ لباس اور ثقافت کا زمانہ جاہلیت سے ہی حصّہ تھا. حضور نے تمام زندگی عمامہ باندھا. عمامہ بھی عربی لباس کا ایک حصّہ تھا اور عرب کے مردوں میں کافی مقبول تھا. لیکن شریعت میں عمامہ باندھنا مردوں پر فرض نہیں کیا گیا، بلکل اسی وجہ سے عورتوں کا خمار لینا بھی فرض نہیں کیا جا سکتا. کچھ لوگوں نے کہا ہے کہ عورت کے بال اسکی زینت کا حصّہ ہوتے ہیں اسلئے اسکو ڈھانپنا ضروری ہے. بال چہرے سے زیادہ خوبصورت نہیں ہوتے، تو جب چہرے کو ڈھانپنے کا حکم نہیں ہے تو بال کے ڈھانپنے کا حکم کیسے ملتا ہے ؟

اس لئے کوئی اسلامی حکومت یہ قانون نہیں بنا سکتی کہ سکارف یا سر پردپٹا لیا جائے. ہاں اگر عورت خود لینا چاہے تو اسے کوئی روک ٹوک نہیں ہونی چاہے.

کیا اسلام میں نقاب کا حکم ہے یا کیا ام المومنین میں سے کسی نے نقاب کیا؟

قران میں کہیں بھی چہرے کے نقاب کا حکم نہیں دیا گیا نہ ہی یہ ام المومنین میں سے کسی نے چہرے کا نقاب کیا. اس ضمن میں میرے دلائل درج ذیل ہیں :

1. سوره نور کی آیات نمبر ٣٠ میں الله مردوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ نگاہیں نیچی رکھیں. اگر نقاب کا حکم ہوتا تو مردوں کو نگاہیں نیچی کرنے کا حکم کیوں دیا جاتا؟

2. سکالر یہ کہتے کہیں کے ام المومنین نے چہرہ کا نقاب کیا تھا. لیکن ایسی کوئی روایت شروع کی حدیث اور تاریخ کے لٹریچر میں نہیں ملنی. یہ روایت دوسری صدی ہجری میں مقبول ہویی تھی جب اس وقت کے حکمرانوں نے عورتوں کے چہرے کا نقاب کو فروغ دیا. بہت سے علما اس ضمن میں حوالہ کے لئے قصّہ افک کا ذکر کرتے ہیں جب حضرت عایشہ پر الزام لگایا گیا تھا کیونکہ اس روایت میں پورے واقعے کی تفصیل بیان کی گئے ہے اور حضرت عایشہ کے اپنے بیانات بھی تفصیل سے لکھے گئے ہیں. بخاری اور ابن اسحاق میں یہ واقیہ بہت تفصیل سے بیان کیا گیا ہے . بخاری، مسلم، اور ابن اسحاق میں لکھا گیا اہے کہ صفوان نے حضرت عایشہ کو دیکھا اور انکو پہچان لیا. بخاری میں قصّہ افک ٣ جگہوں پر بیان کیا گیا ہے جن میں سے ١ جگہ لکھا ہے کہ حضرت عایشہ نے صفوان کو دیکھ کر چہرے کو ڈھانپ لیا جبکے ٢ جگہوں پر ایسا کچھ نہیں لکھا. اسی طرح مسلم اور ابن اسحاق میں بھی ایسا کچھ نہیں لکھا کہ حضرت عایشہ نے چہرہ ڈھانپا یا نہیں بلکہ صرف یہ لکھا ہے کہ صفوان نے حضرت عایشہ کو پہچان لیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت عایشہ کا چہرہ نقاب میں نہیں تھا.

3. کچھ علمانے سوره احزاب کی آیات نمبر ٥٩ کو نقاب کو لازم کرنے کے لئے استعمال کیا ہے. ان علما کا کہنا ہے کہ آیات میں جلباب کو اوڑھنے کے لیا لفظ ‘یدنین’ استعمال ہوا ہے جسکالغوی مطلب قریب لانا ہے.یعنی اوڑھنا (لباس کے قریب لانا ). پہلی بات تو یہ کہ یہ آیات تمام زمانوں کے لئے نہیں تھی اس لئے اسکا شہریت میں استعمال نہیں ہوسکتا. دوسری بات یہ کہ اگر ہم اسکو شامل کریں بھی تو یہ آیات کہیں بھی یہ حکم نہیں دیتی کہ چہرے کو ڈھانپا جائے.

4. چہرہ کو ڈھانپنے سے عورت کو کام کاج کرنے میں، کھانے، پینے میں بہت مشکل کا سامنا ہوگا. اسکے علاوہ گرم علاقوں میں نقاب لینا اور بھی تکلیف دہ ہوگا. اسلام میں کوئی حکم ایسا نہیں ہے کہ جو انسانی جان کے لئے مصیبت کا بآیِث بنے. بلکہ خدا خود فرماتا ہے کہ ‘الله کا ارادہ تمھارے ساتھ آسانی کا ہے سختی کا نہیں’ (١٥٨: ٢ )

5. اسلام کی بڑی عبادتوں میں سے ایک عبادت حجج ہے جسے دین کے ٥ ستونوں میں بھی شامل کیا گیا ہے. حجج کے لئے لباس اور حجج ادا کرنے کا طریقہ بہت تفصیل سے بہت سی روایات میں بیان کیا گیا ہے.عورتوں اور مردوں دونوں کے لئے حج کے لیے احرام کا حکم دیا گیا ہے. عورتوں کے احرام میں انہیں چہرہ کھلا رکھنے کا حکم دیا گیا ہے اور اسکی بہت ٹھوس روایات حدیث کی کتابوں میں ملتی ہیں. اسی طرح نماز میں بھی عورتوں کو چہرہ کھلا رکھنے کا حکم دیا گیا ہے. اگر نقاب واقعی اسلامی لباس کا حصّہ ہوتا تو اسے حج جیسے اہم موقعے پر پہنننے کے کیوں نہ کہا گیا؟ یہاں یہ بات بھی بتاتی چلوں کہ جو علما نقاب کا حکم دیتے ہیں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ عورت نماز کے وقت چہرے کو کھلا رکھے گی چاہے وہ کہیں بھی نماز کیوں نہ پڑھ رہی ہو. اگر نقاب واقعی لازم ہوتا تو یہاں نقاب کی چھوٹ کیوں دی جارہی ہے ؟

اسکے علاوہ بھی حدیث کے کسی واقعی سے یہ حکم یا تاثر نہیں ملتا کہ ام المومنین نے نقاب لیا تھا. وہابی علما نے بہت سی غلط حدیثوں کو شریعت کو استعمال کر کے نقاب کو شریعت میں شامل اور فرض کیا ہے. ان تمام حدیثوں کا ایک تنقیدی جایزہ اور انکے صحیح ہونے کے معیار کی تفصیل پروفیسر بلال فلپ کی کتاب ‘دی فیس ویل’ میں بہت عمدہ طریقے سے بیان کی گئے ہے. یہ کتاب انٹرنیٹ پر بھی موجود ہے اور قریں سے گزارش ہے کہ اس کتاب مطالع کریں اور جاننے کی کوشش کریں کہ کسطرح غلط اور بےبنیاد احادیث کو شریعت میں عورتوں کے خلاف استعمال کیا گیا ہے.

کیا اسلام عورتوں کو مخلوط ماحول میں کام کرنے اور مردوں سے پشوارانہ تعلقات رکھنے سے منا کرتا ہے ؟

سوات میں طالبان نے خواتین کو گھروں سے نکلنے حتیٰ کہ سکول، کالج اور بازار جانے تک پر پابندی لگا دی تھی. اس تصویر میںسوات کی خواتین کے کپڑوں کی ایک مارکیٹ پر بینر آویزاں ہے کہ خواتین کا داخلہ بند ہے.

سوات میں طالبان نے خواتین کو گھروں سے نکلنے حتیٰ کہ سکول، کالج اور بازار جانے تک پر پابندی لگا دی تھی. اس تصویر میںسوات کی خواتین کے کپڑوں کی ایک مارکیٹ پر بینر آویزاں ہے کہ خواتین کا داخلہ بند ہے.

یہاں میں اسلامی تاریخ سے کچھ واقعیات بیان کرنا چاہوں گی جس سے قارین کو اندازہ ہوجاے گا کہ اس وقت خواتین معاشرے میں کس قدر بھرپور عملی کردار ادا کرتی تھی.:

1. حضرت محمّد نے عورتوں کو جنگوں میں شامل کیا جہاں وہ زخمیوں کی عیادت اور مرہم پٹی کی ذمہ داریاں نبھتی تھیں5.
2. حضرت عثمان نے اپنے دور حکومت میں حضرت ام کلثوم (حضرت علی کی بیٹی ) کو اپنی حکومت کا سفارتی نمائندہ بنا کر روم بھیجا .
3. حضرت فاروق نے اپنے دور حکومت میں ایک خاتون شفا بن عبدللہ کو ایک عدالت کا قاضی مقرر کیا. 6.
4. حضرت عایشہ حضور کی زندگی میں اور آپکے وصال کے بعد بھی اسلامی تعلیمات دیتی رہیں. صحابہ کرام آپکے پاس تعلیم حاصل کرنے کے لئے آتے تھے. اگر عورتوں کا مردوں سے بات چیت یا میل جول کی ممانعت ہوتی تو حضرت عایشہ صحابہ کو تعلیم کیوں دیتی ؟
5. حضرت حسین کی بیٹی (حضور کے عزیز نواسے کی دختر )حضرت زینب ملک کے سیاسی معاملات میں بہت دلچسپی رکھتی تھی اور اس وقت کے خلیفہ کے خلاف اپ نے بہت مظاہرے بھی کیے اور مختلف جگہوں پرعوامی اجتماعات کی سربراہی کی اور ان میں حکومت کے خلاف آواز بھی اٹھایی. اپ نے قریش کی قبیلوں کے اجلاس (آج کے زمانہ کے مونسپل کمیٹی ) میں بھی بھرپور شرکت کی. آپکی بہادری اور آپکے سیاسی کارکن کی حثیت سے کارناموں کے قصّے بہت سی تاریخ کی کتابوں میں تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں. 7

حرف آخر :

اسلام زمانہ جاہلیت کے عورتوں پر ظلم کے خلاف بلند آواز اٹھاتا ہے اور مسلم عورت کو شخصی آزادی دیتا ہے. ام المومنین اور صحابیات نے جس قدر معاشرتی عملی کردار ادا کیا اسکی مثالیں ہم سب کے سامنے موجود ہیں. حضرت محمد کی زوجہ ام سلمہ خواتین کے حقوق کی علمبردار تھی اور انہوں نے حضور سے خود بارہا سوال کیا کہ الله اپنی آیات میں صرف مردوں کو مخاطب کیوں کرتا ہے اور عورتوں کا ذکر کیوں نہیں اتا. ام سلمہ کے اس سوال کا جواب پر آیات نازل ہویں جسمیں خدا نے نہ صرف عورتوں اور مردوں کو مخاطب کیا بلکہ دونوں کو برابری بھی دی. ام سلمہ نے وہ مطالبہ کیا جو آج کی فیمنسٹ کرتی ہیں : مردوں اور عورتوں کے برابر کے معاشرتی حقوق اور انکے مطالبے کے جواب میں خدا نے آیات بھیجی جو عورتوں کی برابری کی تصدیق کرتی ہیں.

اسلام میں ایسا کوئی حکم نہیں ہے کہ جس سے عورتوں کے سر سے پیر تک ڈھانپا ہونے، گھروں میں محصور ہو کر رہنے، یا مردوں سے میل جول نہ رکھنے کا کہا گیا ہو. قران میں صرف ١ آیات میں لباس کے بارے میں حکم ملتا ہے جبکہ کردار کی بلندی اور تقویٰ کے لئے کی کی آیات موجود ہیں. افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے علما نے لباس پر زیادہ دور دیا ہے لیکن اخالق اور کردار کی بلندی پر کوئی بحث نہیں کی. عورتوں کے پردے کو اسلام نے اتنا برا مسلہ نہیں بنایا جتنا علما نے بنایا ہے .دنیا بھر میں برقع اور نقاب اسلام کی نشانیاں بن کر رہ گئی ہیں جب کہ مسلم کی شان برقع کی بجایے اسکا کردار ہونا چاہیے تھا. آج کے مسلمانوں نے اپنی ہدایت اور دینی تعلیم ‘نیم حکیم’ ملاؤں سے لینا شروع کردی ہے اور عورتوں کو گھروں ، چار دیواریوں میں محصور کرکے معاشرے سے الگ تھلگ کردیا ہے. کیا ان ملاؤں اور انکے پیروکاروں کو حضرت عایشہ ، حضرت ام سلمہ، حضرت کلثوم، اور حضرت زینب کی زندگیوں اور انکی بھرپور معاشرتی کردار کے بارے کچھ نہیں معلوم ؟

ریفرنسس

1. http://www.theglobeandmail.com/news/world/asia-pacific/calcutta-schools-students-demand-teachers-wear-burkas/article1655573/ust/

2. http://www.rawa.org/rules.htm

3. Cyril Glasse. The Concise Encyclopedia of Islam. Harper and Row Publishers, New York, N.Y., 1989,

4. http://www.bilalphilips.com/bilal_pages.php?option=com_content&task=view&id=277

5. Fatima Mernissi. The Veil and the Male Elite. Addison-Wesley Publishing Company. 1994.

6. http://www.youtube.com/watch?v=cmFUx-Wobog

7. Fatima Mernissi. The Veil and the Male Elite. Addison-Wesley Publishing Company. 1994.


یہ تحقیقی رپورٹ ثمرین شہباز نے روشنی کے لئے لکھی. ان سے رابطے کے لئے ای میل اڈرس یہ ہے : samreenshahbaz_1[at]hotmail[dot]com

اس مضمون کا پہلا حصّہ عورت اور پردہ کہ عنوان سے روشنی پر موجود ہے. پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

Related Posts with Thumbnails

موضوع : مذہب

ٹیگ : , , , , , ,

Comments (8)

Trackback URL | اس تحریر کے تبصروں کی RSS Feed

  1. Hidden due to low comment rating. Click here to see.

    اس تبصرے کو کافی قارئین نے نا پسند کیا. آپکو پسند ہے یا نا پسند : Thumb up 0 Thumb down 6

  2. zain khan says:

    Hidden due to low comment rating. Click here to see.

    اس تبصرے کو کافی قارئین نے نا پسند کیا. آپکو پسند ہے یا نا پسند : Thumb up 2 Thumb down 7

  3. جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ قرآن میں نقاب کا حکم نہیں ہے وہ اعلانیہ قرآن کی ایک آیت کا انکار کرتے ہیں۔ قرآن کہتا ہے “اے مؤمنات اپنے آپ کو جلباب میں اس طرح چھپا لو کہ تمہاری پہچان نہ ہو سکے” اب میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کسی کی معرفت چہرے کے علاوہ کسی اور عضو سے ہوتی ہے؟؟؟ آپ کو کونسی چیز ماں یا بہن اور بیوی میں فرق بتاتی ہے؟؟؟ کیا چہرہ؟؟؟؟ اگر چہرہ ہی عضو تعارف ہے تو اسے چھپانا تو اوپر ثابت ہو چکا ہے، اب آپ کیا کہیں گے؟؟؟

    اس تبصرے کو کافی قارئین نے پسند کیا . آپکو پسند ہے یا نہ پسند : Thumb up 7 Thumb down 3

  4. تحریم says:

    Hidden due to low comment rating. Click here to see.

    اس تبصرے کو کافی قارئین نے نا پسند کیا. آپکو پسند ہے یا نا پسند : Thumb up 1 Thumb down 5

  5. Shahbaz says:

    اگر نقاب کا حکم ہوتا تو مردوں کو نگاہیں نیچی کرنے کا حکم کیوں دیا جاتا؟
    ج۔ کیوں کہ ہر زنا کا شروع نظریں ملانے سے ہوتا ہے۔

    اس تبصرے کو کافی قارئین نے پسند کیا . آپکو پسند ہے یا نہ پسند : Thumb up 7 Thumb down 3

  6. islam sab sy zada zor pardy k oper dyta ha orat ko hazrat fatima r.a k pardy k bary main perh lyna chaey phr comments pas kren

    پسند یا نا پسند : Thumb up 3 Thumb down 0

  7. Haroon Rashid says:

    سلام بہن، مجھے آپ ک ارادے پر شک نہیں ، لیکن آپ نے شاید سورہ نور کی آیت ٣١ پر غور نہیں کیا ، اس آیت میں الله نے صاف ہدایت دی ہے کہ عورت کے لیے اپنے لباس میں تبدیلی لانا لازم ہے جبکہ وو کسسی غیر محرم کے سامنے جاۓ … یہی حجاب کا حکم ہے .. اب ظاہر ہے اس آیت ک مطابق آپ اپنی جو زینت محرموں پہ ظاہر کر سکتی ہیں اس میں سر سے چادّراتارنے تک ہی کی حد ہے ، ستر تو محرم میں بھی صرف شوہر کے سامنے … بہرحال …. And tell the believing women to reduce [some] of their vision and guard their private parts and not expose their adornment except that which [necessarily] appears thereof and to wrap [a portion of] their headcovers over their chests and not expose their adornment except to their husbands, their fathers, their husbands’ fathers, their sons, their husbands’ sons, their brothers, their brothers’ sons, their sisters’ sons, their women, that which their right hands possess, or those male attendants having no physical desire, or children who are not yet aware of the private aspects of women. And let them not stamp their feet to make known what they conceal of their adornment. And turn to Allah in repentance, all of you, O believers, that you might succeed………………………………………………………………………………………………………..مہربانی فرما کے غیر محرموں ک سامنے زینت آرائی کے راستے نہ کھولیں جو کے الله نے حرام قرار دیا ہے … الله مجھے اور ہم سب کو ہدایت دے ……

    اس تبصرے کو کافی قارئین نے پسند کیا . آپکو پسند ہے یا نہ پسند : Thumb up 5 Thumb down 1

  8. Muhammad says:

    عصر حاضر میں بعض تجدد پسند اصحاب نے اسلام میں عورت کے درجے کے بارے میں نہ صرف بعض غلط دعوے کیے ہیں بلکہ اسلامی قانون کی بھی غلط تشریح و توجیہہ کرتے ہوءے اجتہاد کے ذریعہ اس میں بعض تبدیلیاں کرنے کی بھی وکالت کی ہے۔ نیز عورت کی تمدنی حیثیت ؛ عورت اور مرد کے درمیان مساوات؛ عورت کی تعلیم؛ پردہ؛ طلاق اور تعدد ازدواج وغیرہ مساءل کے بارے میں اسلام کے صحیح نقطہ نظر پر نکتہ چینیاں کرتے ہوءے مسلمانوں کے موجودہ عمل کو دقیانوسی بتایا گیا ہے۔علماء کے لیے ایک نیا چیلنج اس غلط ذہنیت کا توڑ کرنا ہے۔ اس کے لیے علماء نءے انداز میں اسلامی احکام پر عقلی نقطہ نظر سے کتابیں لکھیں اور اسلامی احکام کی خوبیوں اور ان کی حکمتوں کو وضاحت کریں جس کے باعث اس قسم کے رکیک شبہات و اعتراضات کا قلع قمع ہو سکے۔اسی ضرورت کے پیش نظر مولف رسالہ نے عورتوں کی معاشی و تمدنی سرگرمیوں؛ طلاق؛ تعدد ازدواج اور آزادانہ سیر و سیاحت پر بحث کی ہے۔ امید ہے کہ یہ شبہات کے ازالہ میں معاون ثابت ہوگی۔
    http://www.allofislam.com/books.php?book=5

    پسند یا نا پسند : Thumb up 0 Thumb down 2

تبصرہ لکھیے




اگر آپ چاہتے ہیں کے آپکے تبصرے کے ساتھ تصویر نظر آئے تو حاصل کیجیے Gravatar.

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)